١- تاریخ وقوعہ اور وقت ( وقت کو ہمیشہ تقریبا لکھنا چاہیئے مثلا صبح تقریبا 8 بجے یا شام تقریبا 4 بجے
.٢-جرم کی نوعیت
٣- ملزم یا ملزمان کی تعداد، اگر ملزم ایک سے زیادہ ہیں تو ان تمام کے پاس ہتھیاروں کی اقسام اور تعداد
٤- اگر ملزم یا ملزمان نامعلوم ہیں تو ان کا حلیہ لکھیں اور ساتھ یہ لکھیں کہ سامنے آنے پر انھیں پہنچانا جاسکتا ھے
٥- وقوعہ کا ذکر اور وقوعہ میں ملزمان کا عملی کردار مثلا کس نے فائر مارا یا کس نے پتھر مارا وغیره
٦- اگر مدعی نے کوئی مال اس وقوعہ میں کھویا ھے تو اس کی مالیت
٧- گواھوں کے نام ولدیت سکنہ، صرف ضروری اور چشم دید گواھوں کا نام شامل کریں
٨- اگر ایف آئی آر کی درخواست دینے میں کچھ دیر ھوئی ھے تو اس دیری کی وجہ
٩- درحواست کے آخر میں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کریں
١٠- درخواست دہندہ کا نام ولدیت قوم سکنہ، شناختی کارڈ کی کاپی اور موبائل نمبر
١١- درخواست دہندہ کے دستخط یا نشان انگوٹھا اور اس کے نیچے تاریخ اور درخواست دینے کا وقت بھی لکھ دیں تو بہتر ھوگا
نوٹ: اصل ملزم کے علاوہ کسی دوسرے- شخص کو بلاوجہ ایف آئی آر میں بطور ملزم نہ لکھیں کیونکہ اگر میں اصل ملزم کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ نامزد کیا جائے تو پھر ٹرائل میں اصل ملزم بھی اس تضاد کی وجہ سے عدالت میں سزا سے بچ جاتا ہے، ایف آئی آر مقدمہ کی بنیاد ہوتی ہے ایک مظبوط ایف آئی آر ملزمان کی سزا اور ایک کمزور ایف آئی آر ملزمان کو باعزت بری کروا سکتی ہے